Shad Rajput

Add To collaction

یہ کہہ گئے ہیں مسافر لٹے گھروں والے

یہ کہہ گئے ہیں مسافر لٹے گھروں والے
ڈریں ہوا سے پرندے کھلے پروں والے
یہ میرے دل کی ہوس دشت بے کراں جیسی
وہ تیری آنکھ کے تیور سمندروں والے
ہوا کے ہاتھ میں کاسے ہیں زرد پتوں کے
کہاں گئے وہ سخی سبز چادروں والے
کہاں ملیں گے وہ اگلے دنوں کے شہزادے
پہن کے تن پہ لبادے گداگروں والے
پہاڑیوں میں گھرے یہ بجھے بجھے رستے
کبھی ادھر سے گزرتے تھے لشکروں والے
انہی پہ ہو کبھی نازل عذاب آگ اجل
وہی نگر کبھی ٹھہریں پیمبروں والے
ترے سپرد کروں آئینے مقدر کے
ادھر تو آ مرے خوش رنگ پتھروں والے
کسی کو دیکھ کے چپ چپ سے کیوں ہوئے محسنؔ
کہاں گئے وہ ارادے سخن وروں والے
Unknown

   2
0 Comments